Prophet Muhammad (saw)’s governance was Based on the Revelations حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا برپا کردہ نظام وحی الہٰی پر مبنی تھا

Prophet Muhammad (saw)’s governance was Based on the Revelations حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا برپا کردہ نظام وحی الہٰی پر مبنی تھا

خواجہ ازہر عباس ،فاضل درس نظامی

اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ وہ اور اس کے متبعین ہمیشہ غالب رہیں گے ( 4:141،58:21وغیرہ) اس وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے سورۃٔ ابراہیم میں کفار سے کہا گیا کہ اس خیال میں نہ رہنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا وہ بڑی قوتوں کا ما لک ہے اور اس کے قانون مکافات کی رُو سے ہر شخص کو اس کے ہر غلط کام کی سزاضرور ملے گی۔ اس تصادم اور اللہ و رسول کے غالب آنے کی اور جو نتائج بر آمد ہوں گے قرآن کریم نے ان نتائج کو بھی نہایت جامعیت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48)اے رسول ان سے کہہ دو کہ میری دعوت ایسا انقلاب لائے گی کہ زمین دوسری زمین بن جائے گی اور آسمان ایک دوسرا آسمان بن جائے گا یہ زمین و آسمان  ہی بدل جائیں گے۔ موجودہ معاشرہ کی جگہ  جو معاشرہ قائم ہوگا اور تمام لوگوں کی صحیح پوزیشن اس نظام کے سامنے کھل کر آجائے گی اور اس معاشرہ میں صرف اس کا قانون رواں ہوگا جو بڑی قوتوں اور غلبہ کا ما لک ہے۔ اس ضمون کی تائید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا۔

جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ( 11:82) اور ہم نے اس بستی کو تہ و بالا کردیا چونکہ اس انقلاب کی اساس وحی الہٰی  پر تھی ۔ اس انقلاب کے نتیجے میں قائم شدہ نظام میں نہ تو طبقاتی تفادت باقی رہا او رنہ ہی اس کےشہریوں میں باہمی مفادات کی کشمکش رہی ہے۔ اس نئے قائم کردہ معاشرہ کے قوانین  اس درجہ عدل پر مبنی  ہوں گے کہ جب ان قوانین کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے تو فیصلے سے متاثر ہ دونوں فریقوں کے دل میں کوئی گرانی نہیں ہوگی اور وہ ان فیصلوں  کو خوشی خوشی تسلیم کرلیں گے ( 4:65) سب کا مطمح نگاہ  نظام کے دل سے اطاعت اور اس کا استحکام ۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظام کوئی باہر سے Imposed نہیں ہوتا۔ یہ نظام دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے اور یہ اعمال صالحہ کا نتیجہ  ہوتا ہے ( 24:55)

اس کے باشندگان کا یہ ایمان تھا کہ یہ نظام وحی پر قائم ہے اس لئے وہ اس کے قیام و استحکام کے لئے جو کچھ کرتے تھے ۔ دل کی پوری رضا مندی کے ساتھ کرتے تھے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اس نظام کا قیام اور ا س کا استحکام ان کی زندگی کا تقاضہ تھا ۔ یہ بات ذہن نشین رکھئے کہ مسلمان تو زندہ ہی اس لئے رہتا ہے کہ وہ اسلامی نظام قائم کرے۔ قرآن کریم خارجی تبدیلیوں  کے ذریعے انقلاب نہیں  لاتا۔ نہ ہی قرآن دوسرے معاشروں سے کسی طرح کی مفاہمت کرتا ہے۔ نہ ہی قرآن کا انقلاب کسی پیوند سازی  کا نتیجہ  ہوتا ہے ۔ پیوند سازی او رمفاہمت تو ایک طرف یہ تو باطل پر قائم شدہ نظام کو جڑ و بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دیتا ہے ۔ یہ انقلاب  برپا کرنے کے لئے داخلی زندگی  میں تبدیلی کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ( 13:11) ترجمہ،

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ  ہو جس کو خیال خود اپنی  حالت کے بدلنے کا

(مولانا حالی) یہ اس کا اساسی اصول ہوتا ہے۔ اللہ کسی قوم کو خارجی ماحول کی معرفت نہیں بدلتا  بلکہ پہلے اس کے اندر نفسیاتی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے ۔ اس نظام نے کیا نتائج و ثمرات دیئے یہ تاریخ سے پوچھئے ۔ یہ انقلاب قائم رہتا تو آج تک اس کے نتائج اسی طرح بر آمد ہوتے رہتے ۔ یہ انسانیت کی بد قسمتی     ہے کہ مسلمانوں  نے اس نظام کو چھوڑ دیا اور دنیا کو تباہی  کے کنارے پر لا کھڑا کیا۔ قرآن نے ہمارے ہی متعلق فرمایا تھا وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ( 29:13)

یہ لوگ اپنے گناہوں  کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت کے وقت اسی معاشرہ کی یہ حالت  تھی  وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا (3:103) اور تم بھڑکتی آگ کی بھٹی کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی معاشرہ  کو وحی  کی مستقل اقدار کے مطابق تبدیل کرکے اس کی یہ حالت کردی کہ  فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ( 3:103) اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی اور تم آپس میں بھائی  بھائی بن گئے ۔ قبل اس کے کہ ہم آپ کے سامنے وہ قرآنی دلائل پیش کریں جو قرآن کو وحی ثابت کرتے ہیں یہ بیان کرنا ضروری  سمجھتےہیں کہ تاریخ دان اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا مثل  معاشرہ قائم کردیا تھا تو وہ معاشرہ اتنی جلدی ختم کیوں ہوگیا ۔ وہ نظام اس درجہ جلدی ختم ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ نظام مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہوا تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فراست اور ذہانت سے اس کو قائم کردیا تھا اس کا وحی پر انحصار  نہیں تھا لیکن  اس نظام کے ختم ہونے کی وجوہات یہ ہیں۔

(1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم  دلائل کے ساتھ لوگوں کو دین کی طرف بلاتے تھے ۔ سب سے زیادہ مستقل اقدار کو ان کے ذہن نشین کراتے اور وہ اس سے متاثر ہوکر بلا تامل مسلمان ہوجاتے تھے ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (110:2) اس پر گواہ ہے ۔ البتہ جو لوگ مدینے  سے دور رہتے تھے اور ان کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک رسائی بھی نہیں تھی ، وہ لوگ مسلمان تو ہوگئے لیکن مستقل اقدار  اور قرآن کی حقانیت ان کے ذہن نشین نہیں  ہوسکی (47:16،49:14) تو کچھ ہی عرصہ بعد وہ پھر گئے ۔

(2) دوسری جو بڑی اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ قوانین خداوندی اور اس کے حقائق زمانہ کی عام رفتار کے ساتھ منکشف ہوتے جاتے ہیں ۔ انسانی ذہن ان کو تسلیم کرتا چلا جاتا ہے یعنی اگر ایک تبدیلی کو کئی سو سال کے بعد وقوع پذیر ہونا تھا تو اس عرصہ میں انسانی عقل بھی رفتہ رفتہ اتنی بلند ہوتی جاتی  ہے کہ وہ اس بلند نظریہ کو قبول کرے لیکن اگر کسی خاص جماعت کے اعمال صالحہ سے یہ حقائق  غیرمعمولی رفتار سے آگے بڑھ جائیں تو اس جماعت کے باہر کے افراد کی ذہنی سطح اتنی بلند نہیں ہوتی کہ وہ ان حقائق  کو تسلیم کرتے چلے جائیں ۔ انقلاب عقل انسانی  سے بہت آگے ہوتا ہے۔ اگر انقلاب عقل انسانی سے آگے نہ ہو تو وہ انقلاب ہی نہیں  ہوتا ۔ وحی الہٰی  کے ذریعے جو بلند یا یہ نظریات عطا ء کئے جاتے ہیں وہ بیک وقت دیئے جاتے ہیں ۔ ذہن انسانی کو ان سے مانوس  کرنے کےلئے وقت اور جد وجہد کی ضرورت  ہوتی ہے۔ اس نظام کے ساتھ بھی یہی ہوا، اس کو جاری رکھنے کے لئے جس خاص  کوشش کی ضرورت تھی وہ نہیں  کی گئی جب کہ اس مملکت کا دائرہ وسیع سے وسیع ہوتا چلا گیا ۔ ہر روز کئی ہزار میل کا رقبہ اس میں شامل ہورہا تھا اور ان مفتوحہ لوگوں کو سمجھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ۔ یہ فتوحات اسلامی مملکت کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئیں۔

ایک بات یہ بھی بڑی غور طلب ہے کہ جب مسلمان یہ فتوحات کرتے چلے جارہے تھے ۔ ہر ایک ملک کے باشندوں نےاپنی اپنی زبان چھوڑ کر عربی زبان اختیار کرلی ۔ یہ ان کا قرآن اور اسلام سے دلچسپی کامنہ بولانا ثبوت تھا ۔ چنانچہ سوڈان ، مصر سے لے کر افریقہ کے شمالی علاقہ کے سارے ممالک اپنی اپنی زبان چھوڑ کر عربی اختیار کرتے گئے ۔ چنانچہ مراکش تک عربی زبان رائج و متداوّل ہوگئی ۔ اس کے برخلاف جب مسلمان مشرق کی طرف بڑھے اور انہوں نے ایران فتح کیا چونکہ ایران بزور فتح کیا گیا تھا ۔ اس لئے نہ تو ایرانیوں نے اپنی زبان ترک کی اور نہ ہی عربی زبان اپنائی ۔ اگر ایرانی عربی زبان اپنا لیتے تو اس خطہ تک عربی کا استعمال شروع ہو جاتا۔ اصل یہ ہے کہ ایرانی عربوں کو بڑا حقیر او رذلیل شمار کرتے تھے اور ان سے حد درجہ تنفر رکھتے تھے ۔ عربوں سے اس طرح مفتوح ہو جانا ان کے لئے سوہانِ روح تھا۔ اگر آپ نے شاہنامہ فردوسی ملاحظہ نہ کیا ہو تو اس کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایرانی عربوں سے کس طرح متفر تھے ۔ ا س کے ایک ایک شعر سے نفرت اور حقارت ظاہر ہوتی ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتا ہے۔

ز شیر خوشتر خوردن و سوسمار

عرب را بجائے رسید است کار

کہ تاج کیاں راکند آرزو

تفوبر تو اے چرخ گرداں  تفو

یہ ایرانی دل سے مسلمان نہیں  ہوئے تھے اس لئے یہ اس مملکت کو ناکا م کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے ، اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کرتےرہے ۔ بنو عباس کے دور میں انہیں اس مملکت کا پورا پورا اختیار مل گیا تھا اور برا مکہ اس مملکت کے سیاہ سپید کے مالک ہوگئے تھے اور اس طرح  انہوں نے عربوں سے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔ یہ بات واضح رہے کہ ہم نے جو کچھ بھی ایرانیوں  کےلئے لکھا ہے یہ اُس دور کے زخم خوردہ ایرانیوں کے متعلق لکھا ہے۔ آج کے ایرانیوں  سے اس کا کوئی  تعلق نہیں ۔ یہ موجودہ ایرانی تو ہم سے بہتر ہیں کہ انہوں نے اقامت دین کی کوشش تو کی ۔ ہم تو وہ بھی نہ کرسکے۔

مسلمانوں کے زوال کی یہی مثال ہے کہ جب تک مریض نسخہ استعمال کرے گا، وہ صحت مند رہے گا اور جب وہ مریض  نسخہ ہی چھوڑ دے گا تو نتائج کس طرح مرتب  ہوسکتے ہیں ۔

اگر جہاں داند حرامش داحرم

تا قیامت پختہ ماند ایں نظام

یہاں تک ہم نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے جو اعتراض کو اُٹھاتے ہیں ۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد اب ہم آپ کے سامنے وہ دلائل پیش کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام وحی پر مبنی  تھا ۔

اگر قرآن کریم وحی الہٰی نہ ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ نبی   ہونے کا جھوٹا دعویٰ عمداً کیا ہوتا، تاکہ انہیں شہرت و عزت ملے اور تمام معاشرہ میں ان کی بلند حیثیت ہوجائے ۔جیسا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تو کفار مکہ یہی  سمجھتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  لئے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لئے یہ دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی معرفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلیٰ ترین درجات کی پیشکش کی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آفتاب و ماہتاب بھی مجھے دے دیئے جائیں، تو میں اس دعویٰ سے دستکش نہیں ہوسکتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ اسلام کو بحیثیت ایک دین کے پیش کرتے ۔ محفوظ اور اعتراضات  سےبچنے کا طریقہ یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسلام کو بحیثیت ایک مذہب کے پیش فرماتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور تک صرف مذہب کا تصور تھا اور ا س میں  چند رسوم پر ستش کی ہوتی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مروجہ رسوم میں کچھ و اضافہ کرتے او رکچھ ترمیم کردیتے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور اسلام کو بطور دین کے پیش  کرکے سارےعرب کی مخالفت مول لے لی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو بطور دین پیش کیا ۔ قرآن کریم کو بطور  دین پیش کرنا قرآن  کے وحی الہٰی  ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ اس سے پیشتر دین کا تصور کسی جگہ نہیں تھا ۔ آپ اس با ت پر بھی غور فرمائیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ جھوٹا دعویٰ کرتے، تو اپنے لئے خاص مراعات Privilege ضرور رکھتے  جب کہ اس کے خلاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشریت پر اس درجہ اصرار کیا کہ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ جھوٹا نہیں ہوسکتا ۔ ارشاد ہوا  قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ( 41:6) اے رسول کہہ دو کہ میں تو صرف ایک بشر ہوں ( البتہ) مجھ پروحی نازل ہوتی ہے کہ حاکم صرف اللہ ہے۔ اس کے لئے علاوہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں ۔ پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول کو حجت بھی قرار نہیں دیا گیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ مشورہ کر لیا کریں ۔ پھر ارشاد ہوا  قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (6:15) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نا فرمانی کروں ، تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ارشاد ہوا  وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ۔ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ( 69:44:45) اگر رسول ہماری نسبت کوئی جھوٹ بات بنا لاتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لئے کوئی بلند مقام مخصوص نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واقعاً اللہ کے رسول تھے۔

ذہن انسانی نے آج تک کوئی نظام زندگی ایسا وضع نہیں کیا جس کی بنیاد آئیڈیا لوجی پر ہو۔ تاریخ انسانی میں کمیونزم  وہ پہلا نظام تھا جو آئیڈ یا لوجی کی بنیاد پر متشکل کیا گیا تھا ۔ اس کا انجام اور اس  کی ناکامی آپ کے سامنے ہے۔ وہ کچھ عرصے چلنے کے بعد زمانہ  کے تقاضوں کو پورا نہیں  کرسکا۔ اسلام آئیڈیا لوجی پر قائم  ہوا، اس آئیڈیالوجی کے اجزاء اس کے وحی ہونے پر دلیل ہیں۔ یہ نظام  زندگی ایسا ہے جو زندگی کے تقاضوں  کو پورا نہیں  کرسکا۔ اسلام جس آئیڈیالوجی  پر قائم ہوا، اس آئیڈیالوجی کے اجزاء اس کے وحی ہونے پر دلیل  ہیں۔ یہ نظام  زندگی ایسا  ہے جو زندگی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں باقی  رہنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ وہ اجزاء ہیں ( صلوٰۃ  ، زکوٰۃ  ،خمس) کہ عقل انسانی  ان کے متعلق   سوچ بھی نہیں  سکتی تھی ۔ ( مذہب میں ان کا مفہوم غلط لیا جاتا ہے) او ریہی اجزاء اس کے وحی ہونے کی دلیل ہیں۔

(1) قرآن کریم نے انسان کی حکومت انسان پر حرام قرار دی ہے۔ یہ قرآنِ کریم کا اتنا بڑا انقلابی نعرہ ہے کہ عقل انسانی اس روشن دور تک ، اسے پورے  طور پر اختیار نہیں کرسکی او رنہ ہی اس کو اختیار کرنے کےلئے تیار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزت و تکریم بنایا ہے ( 17:70) جب تک اس نعرہ کو قبول نہیں کرتی دنیا میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم نے انسان کو قانون وضع کرنے کا حق ہی نہیں دیا ۔ حکمرانی صرف اللہ کے قانون کے لئے مخصوص کی ہے۔ کسی انسان کا کسی دوسرے انسان پر حکومت کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا ۔ جو لوگ قانونِ الہٰی   کی اس حکمرانی کو نافذ کرتے ہیں وہ پہلے خود اس قانون کی اطاعت کرتے ہیں  اور اس کے بعد وہ اس کی اطاعت دوسروں سےکراتے ہیں ۔ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ لایشرک فی جکمہ احداً ( 28:26) ( ترجمہ) اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

(2) یونانی فلا سفر سے لے کر نزول قرآن تک انسانی ذہن معاشرہ میں غلاموں کے ہونے کو ضروری سمجھتا تھا ۔ یونانی فلاسفر نے ان کے وجود کو Justify کرنے کےدلائل بھی لکھے ہیں ۔ خود عربوں کا معاشرہ بھی غلاموں سے بھرا پڑا تھا  لیکن قرآن نے یہ انقلابی نعرہ دیا کہ کسی  دوسرے آدمی کو غلام بناناانسانیت کو رسوا کرنا ہے، اور غلام کو فوراً آزادی  دیناچاہئے۔ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً ( 47:4) پھر احسان کر کے یا معاوضہ لے کر اُسے چھوڑ دو۔

(3) اس زمانہ میں انسان کے جو ہر ذاتی یا اس کی صلاحیتوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی بلکہ ہر شخص کا مقام اس کی پیدائش کے اعتبار سے متعین  کیا جاتا تھا۔ خواہ کسی میں صلاحیت ہو یا نہیں ہو۔ انسان کی ذاتی Potentialy کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ایک سردار کا بیٹا سردار اور ایک موچی کا بیٹا موچی ہوتا تھا۔ کسی کی ذاتی سیرت و کردار کو خاطر میں نہیں  لاتے تھے ۔ قرآن کریم نے اس رواج کو فوراً ختم کردیا۔ قرآن کے نزدیک کوئی شخص  کسی خاندان میں پیدا ہو، عزت اس کی ہوتی ہے جو سب سے زیادہ اسلامی مملکت کی اطاعت کرے ۔ ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ۔ وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ( 46:19) ہر شخص کے مراتب اس کی کار کردگی کے مطابق ہونے چاہیں۔

(4) اُس دور میں انسانیت کی تقسیم ملکوں، خطوں، قوموں میں ہوتی  تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی چلی جارہی ہے۔ تقسیم ہند و پاک کے زمانہ میں یہی مسئلہ مابہ النزاع تھا اور اب بھی نیشلزم کی تہ میں یہ موجود ہے۔ اُس وقت آئیڈیالوجی کی بنیاد پر انسانوں  کی تقسیم کرنا وحی الہٰی  کاہی کام تھا۔ عقل انسانی تو آج تک خارجی مدد کے باوجود اس نظریہ کونہ اپنا سکی۔

(5) ارشاد عالی ہے۔مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ ( 3:79) کسی بشر کو یہ جائز نہیں کہ اللہ تو اس کو کتاب ، حکمت اور نبوت عطاء کرے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اطاعت کرو بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ ربانی بنو۔ ایک دوسرے کی پرورش کرو۔ معاشرہ میں کسی شخص کو بھوکا نہ رہنے دو۔ اسلامی معاشرہ میں  اگر کوئی مزدور سارے دن بغیر  کمائے شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹ جائے، تو اس کے بچوں کی بھوک کا ذمہ دار وہ مزدور نہیں  ۔ معاشرہ کا ہر فرد بچوں کی بھوک کا اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح یہ مزدور ہے۔ ہر  شخص دوسرے شخص کی ربوبیت اور کفالت کا ذمہ دار ہے۔ اس دنیا میں  جہاں ہر شخص اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھتا ہو، یہ تعلیم وحی کی ہی ہوسکتی ہے۔

(6) رسول اللہ کے فرائض میں تزکیہ نفس کرنا بھی شامل تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نظام قائم کرکے دیکھایا جس نے اس مملکت کے ہر فرد کی جسم وجاں، دونوں کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کردیا ۔ عقل انسانی ایسا معاشرہ یا ایسا ضابطہ ٔ حیات  بنا ہی نہیں  سکتی جس میں جسم  و جاں دونوں کی صلاحتیں چمک اٹھتیں۔ یا وہ ضابطہ جسم کی پرورش کرے گا، یا جنگل کا سنیاسی بنادے گا۔ یہی تو قرآن کا معجزہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے وحی الہٰی  کے مطابق ایسا معاشرہ قائم فرمایا کہ اس معاشرہ کے سب افراد کی جسم و جان کی صلاحتیں  منقح اور مزکیٰ ہوگئیں ۔ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ اس کے لئے ضروری نہیں تھا کہ ہر فرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے بالمواجہ حاضر ہو بلکہ معاشرہ کے قوانین  ایسے وضع  کئے گئے تھے کہ اس میں بسنے والے سب افراد کی جسم و جان کی صلاحتیں از خود بلند سےبلند تر ہوتی چلی جائیں ۔

(7) آج سے ایک ہزار سال پیشتر انسانی زندگی گزارنا آسان او رسہل تھی اور وقت بھی اتنی  اہمیت  نہیں تھی ۔ ہمارے بچپن تک میں لوگ عام طور پر تاش  کھیلتے تھے ۔ چار آدمی تاش کھیلتے تھے اور آٹھ آدمی ان کو مشورہ دیتے تھے وقت کا کوئی خیال ہی نہیں تھا ۔ ڈیڑھ ہزار سال پیشتر قرآن نے فرمایا۔

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا۔إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ( 18:23:24) (ترجمہ) اور ہر گز نہ کہہ میں یہ فلاں کام کل سر انجام دونگا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ اُصول تو یہ ہے کہ روز کا کام روز کر و اور کسی کام کو اگلے روز کے لئے ملتوی نہ کرو۔ مگر اُصول قرآنی حکم تو یہ تھا جو قرآن نے دے دیا لیکن قرآن  تو وحی الہٰی  ہے اور آئندہ کے تمام از منہ کی کتاب ہدایت ۔ اس لئے اس میں استثناء دے کر فرمایا ہاں مگر وہ کام جو قوانین الہٰی  کی وجہ سے ہی تاخیر  کے متقاضی ہوں ۔ اگر ایک شخص نے آج فصل بوئی تو ظاہر ہے کہ وہ اس کو کل نہیں کاٹ سکتا۔ اس لئے فرمایا کہ جس کام میں قوانین الہٰی خود تاخیر کے متقاضی  ہوں، وہاں تو ان کاموں کو سر انجام دینے میں تاخیر کرنی چاہئے۔ ورنہ روز کا کام روز سر انجام دو۔ یہ قرآن کریم کی اس درجہ نصیحت آموز آیت ہے کہ ہمیں  چاہئے کہ اپنے مدارس کا لجز، دفاتر میں اس آیت کو نہایت نمایاں جگہ آویزاں کریں اور اس پر مسلسل کام کریں۔

======================================================

مردہ اور مچھر

میں نے کہا یار محمد ! آپ کو ڈر نہیں لگتا آپ کے گھر میں اتنے مچھر اڑتے پھرتے ہیں آج کل خطرناک مچھروں کی وباء آئی ہے کہیں کوئی مچھر آپ کے بچوں کو نقصان نہ پہنچائے؟۔

کہا کیا کریں فرہاد صاحب بیٹے کی ایک تنخواہ ہے اور ہزاروں بکھیڑے ہیں ، یہ قریب ہی چھپر ہوٹل میں ٹی وی پر مچھر کی ہولناکیوں او رتباہکاریوں کا درس سنتے رہتے ہیں ، بس نہیں چلتا مچھر مار دوا کا چھوٹا ڈبہ 36 روپئے کا آتا ہے اور اسپرے پمپ میں پورا ڈالو تو پھر بھی بھرتا نہیں  ہے۔ غریب  آدمی اگر مچھر مار دوا سے مچھر ماریں تو اس کا اثر بچوں پر پڑتا ہے، بچے بھوک سے مرتے  ہیں، جب ان کے نصیب میں مرنا ہی ہے تو بھوک سےمریں یا مچھر سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ دراصل یہ کام حکومت کا ہے۔ انگریز کا دور تھا میں رسالپور اسکول میں پڑھتا تھا C.M.H. کے مرکز سے مچھر مار گینگ تیار ہوکر مختلف دیہاتوں کی طرف روانہ ہوجاتے تھے اور دوا چھڑکتے تھے ۔ ہم بچو ں کو بھی پمپ دے دیا جاتا تھا، قریب                    ہی ہندوؤں کی بستی تھی یہ سائیس تھے، مجھے یاد ہے کہ جب میں  لین میں پانچویں مکان پر گیا تو گھر والی نے کہا بیٹا تم ہندو یا مسلمان ؟ میں نے بتایا کہ مسلمان ہوں۔ کہا کسی ہندو کو بھیجو اس نے کہاکل  ہی میں گھر کو گوبر کا لیپا دیا ہے یہ ناپاک ہوجائے گا۔ پھر میں نے اپنے کلاس فیلو رام ناتھ کو بھیجا ۔ لیکن میں سوچتا رہا کہ ہندوؤں کے نزدیک انسان گوبر سے بھی ناپاک ہے؟ مگر انسان تو رام ناتھ بھی ہے۔ اسےکیسے ہندو عورت نے گھر میں گھسنے دیا؟۔ اور فرہاد صاحب ! ہوائی جہاز بھی مچھر مار دوا چھڑکا کرتے تھے ۔ میرا خیال ہے جاتے جاتے انگریز مچھر مار دوا اور دو پروں والے ہوائی جہاز بھی لے گئے ۔ سائیں بابا ! بلا شبہ وہ حکومت کرتے تھے کچھ کماکر لے جاتے  بھی ہوں گے مگر اپنی رعایا پر خرچ بھی کرتے تھے زرین گل کی طرح نہیں تھے کہ بیل سے کام تو لیتا تھا اور چارا وغیرہ نہیں دیتا تھا، لہٰذا بیل مرگیا۔ ہمارا بھی یہی  انجام ہونے والا ہے۔ سمجھ میں نہیں  آتا کہ انگریز مچھر مار دوا چھڑکتا تھا یہ دیسی حکمران کیوں نہیں چھڑکتے؟

فرہاد صاحب !! ان سے یہ اُمید نہ رکھو ہسپتال کی ایمبولینسیں سار ا دن کھڑی رہتی  ہیں مگر لیجربک میں ان کا اندراج ہوتا ہے فلاں جگہ گئی اور اتنے بجے واپس آئی اتنا پٹرول، ڈیزل خرچ ہوا، جو یہ فن جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مفت اسپرے کرنے والی دوا ڈبوں میں بند کر کے 36 روپے فی ڈبہ فروخت  کریں۔ اور ہسپتال کو ایمبولینس  کی ضرورت بھی کیا ہے ۔ عبدالستار ایدھی ہے نا۔

فرہاد صاحب! عبدالستار ایدھی کے ستارے بھی آج کل گردش میں ہیں ظالموں نے کفن کے پیسے بھی نہ چھوڑے ۔ سائیں بابا ! چرواہا غافل ہو تو تو اس کی بھیڑ بکریاں درندے اٹھا لیتے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

دسمبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/prophet-muhammad-(saw)-s-governance-was-based-on-the-revelations–حضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-برپا-کردہ-نظام-وحی-الہٰی-پر-مبنی-تھا/d/100347

Advertisements